اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے اسلام آباد میں دھرنے اور ملک بھر میں جلسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے اعلٰی ترین فیصلہ ساز فورم نے مستقبل میں سانحہ ملتان جیسے واقعات کو روکنے کیلئے اپنے جلسوں کے حوالے سے سخت رہنما اصول بھی وضح کیے۔
آئندہ جلسوں میں پارٹی قیادت کی منظوری کے بعد محدود تعداد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سٹیج پر جانے کی اجازت ہو گی۔
اسی طرح، جلسوں میں آنے والوں کی سیکورٹی کے لئے ، کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مقامی سول انتظامیہ کو مکمل اختیارات دے گی اور پارٹی صرف سٹیج کے انتظامات تک محدود رہے گی۔
پی ٹی آئی 17 اور 23 اکتوبر کو سرگودھا اور فیصل آباد میں جلسے کرے گی۔
عمران خان نے 21 نومبر کو بھٹوز کے آبائی علاقے لاڑکانہ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
ایک سینئر پی ٹی آئی رہنما نے ڈان کو بتایا کہ کور کمیٹی نے اقلیتوں کے حقوق کو نمایاں کرنے کے لئے 19 اکتوبر کو مختلف سپیکرز کو اپنے سٹیج سے خطاب کرنے کے لئے مدعو کیا ہے۔
اسی طرح، 24 اکتوبر کو معزور لوگوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لئے بھی ایسا ہی پروگرام طے ہے۔
کمیٹی کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ ' پی ٹی آئی میں اکثریت سمجھتی ہے کہ عوام میں پارٹی کی مقبولیت کو بڑھانے کے لئے حالات نہایت ساز گار ہیں کیونکہ چودہ اگست کو آزادی مارچ شروع ہونے کے بعد سے اسے بڑی عوامی تائید حاصل ہوئی'۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جلسوں میں بڑی عوامی تعداد پر پارٹی رہنما خوش ہیں اور انہوں نے تحریک کو مزید آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پی ٹی آئی نے اپنے جلسوں کی ٹائم لائن طے کر رکھی ہے؟ تو اس پر رکن کمیٹی نے کہا 'چونکہ پارٹی کا پیغام عوام تک پہنچ رہا ہے، لہذا ملک میں تبدیلی آنے تک تحریک جاری رکھی جائے گی'۔
'اِس وقت ہم نے دسمبر تک کے لئے اپنا پروگرام طے کر رکھا ہے'۔
کور کمیٹی کے ایک اور رکن نے کہا کہ جلسوں کی مقبولیت کے بعد 'ہمیں حکومت پر مزید دباؤ بڑھانا ہو گا'۔
ان کا کہنا تھا 'اگر حکومت نتائج پر مبنی مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو ہم بھی اس کے لئے تیار ہیں'۔
انہوں نےکہا کہ اگر پاکستان مسلم لیگ-نواز یہ سمجھتی ہےکہ حالات جوں کہ توں رہیں گے تو وہ بھیانک غلطی کر رہی ہے کیونکہ لوگوں میں اپنے سیاسی حقوق کے حوالے سےشعور بڑھ رہا ہے .
.......
/169